بسم
اللہ الرحمن الرحیم
مرزا
قادیانی کافر یا مرتد؟ ایک فکرانگیز تجزیہ
تحریر:
پرویز اقبال آرائیں، (ریسرچ اسکالر پی ایچ۔ ڈی)، شعبہ قرآ ن و سنة،
کلیہ
معارف اسلامیہ، جامعہ کراچی۔
کس قدرلاپرواہ، غافل،
ظالم، بےحس، سرکش، کم نصیب اوربدقسمت ھیں وہ لوگ کہ جو اپنے نہایت مہربان، بہت بڑے
رحم فرمانےوالے رب کریم کےعظیم الشان ومقدس کلام، قرآن مجید، پیارے رسول اللہ (صلی
اللہ علیہ والہ وسلم) کی سنة (احادیث صحیحہ)، سیرة طیبة واسوةالحسنة سےمتعلقہ (انسانی
زندگی کی سب سے) اھم ترین باتوں اورپیغامات میں ذرا سی بھی کوئی دلچسپی لیتے ھیں
اور نہ ھی کچھ توجہ اوردھیان دیتے ھیں، جیسا کہ نسبتا کم اھمیت رکھنے والی، (ھرکس
وناکس، عام انسان، دوستوں وغیرھم کی) باتوں اورپیغامات کی طرف وہ متوجہ ھوتےاوران
پردھیان دیتے ھیں، حالانکہ بلاشبه قرآن مجيد كتاب الله، كلام الله اورعلم الله،
ایک بےمثل، الوهى ھدایت پر مبنی متن اور وحی الہی ھے، اس کےالفاظ، معارف ومعانى،سب
الله کی طرف سے یعنی منزل من الله ھیں، قرآن علم بالوحی ھےا ورانسانی کلاموں، علوم
ومتون پرقرآن مجید کی فضيلت بالكل اوربعینہ ويسى ھی ھےجیسی کہ خالق كائنات اللہ رب
العالمین سبحانه وتعالى کی فضیلت اپنی ساری مخلوقات پرھے- ھمارے حقیقی خالق ومالک
اللہ تعالی نے اپنی اس عظیم نعمت قرآن مجید کو انسانوں کی ھدایت و راھنمائی اور
خیروفلاح کےلئے، اپنے محبوب آخری رسول امام الانبیاء رحمة للعالمین (صلی اللہ علیہ
والہ وسلم) پرنازل فرمایاھے۔
بظاھر ھمیں اپنے رب کریم،
رسول(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) اور دین اور ایمان کے ساتھ کوئی اتنا خاص لگاؤ،
سروکار، تعلق نہیں! آخرھم سوچتے کیوں نہیں! کیا یہ کوئی معمولی بات ھے؟ یا کسی
بہبت بڑےالمیہ سےکچھ کم سنگین معاملہ ھے؟
خوب جان لیجئے کہ:
الله سبحانه و تعالى
انبياء ورسل عليهم الصلواة والسلام کے سوا کسی بھی انسان کو براه راست اوربلا
واسطه هدايت عطا نہیں كرتا بلکہ باقی تمام انسانوں کو
اپنے انبياء و رسل علیہم الصلواة والسلام کے توسل و توسط سے ھی ھدایت
دیتا ھے-
اللہ رب العالمین سبحانہ
وتعالی نے انسانوں کی ھدایت و راھنمائی کے لئے، اپنے آخری رسول امام الانبیاء رحمة
للعالمین (صلی اللہ علیہ و الہ وسلم) پر نازل کردہ وحی متلوو (آخری الھامی کتاب
ھدایت قرآن مجید) اور وحی غیرمتلوو (سنة رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم) پر
مبنی جو دین عطا فرمایا، اپنے اس پسندیدہ دین کا نام "الاسلام" رکھا
جوکہ پورے کا پورا منزل من اللہ اور کامل و اکمل ھے۔
اللہ رب العالمین سبحانہ
وتعالی نے عالم انسانیت کے لئے اپنی اس عظیم نعمت، الوھی ھدایت یعنی دین
"الاسلام" کی تکمیل کا بالکل واضح، واشگاف اورغیر مبہم اعلان (خود اپنی
آخری الھامی کتاب ھدایت، کلام اللہ یعنی) قرآن مجید میں فرما دیا جب کہ اللہ رب
العالمین سبحانہ وتعالی کے آخری رسول امام الانبیاء رحمة للعالمین حضرت محمد مصطفی
(صلی اللہ علیہ و الہ وسلم) نے بھی اپنے خطبہء حجة الوداع میں دین اسلام کے مکمل
ھونے کا بالکل واضح، واشگاف اورغیر مبہم اعلان فرمایا دیا۔
قرآن و سنة پر مبنی اللہ رب
العالمین سبحانہ وتعالی کے پسندیدہ الوھی دین "الاسلام" میں حجیّت (اتھارٹی)
صرف قرآن وسنة ہی ہیں، ان دو کے ما سوا (کسی بھی شخص یا اشخاص، جماعت یا گروہ، اکابر
یا اکابرین، فقیہ یا فقہاء ، مجتہد یا مجتہدین، کسی بھی تصنیف یا تالیف شدہ کتاب یا
کتب سمیت) کسی بھی انسانی خیالات و بشری افکار کو دین اسلام میں حجیّت (اتھارٹی) کی حیثیت حاصل
نہیں ہے لہذا الوھی ھدایت پر مشتمل، قرآن و سنة پر مبنی، اللہ رب العالمین سبحانہ وتعالی
کے پسندیدہ دین "الاسلام" میں کسی کمی و بیشی، ردوبدل، ترمیم و تحریف کا
کوئی امکان یا جواز باقی نہیں رھا۔ الله سبحانه و تعالى انبياء ورسل عليهم الصلواة
والسلام کے سوا کسی بھی انسان کو براه راست اوربلا واسطه هدايت عطا نہیں كرتا بلکہ باقی تمام انسانوں کو
اپنے انبياء و رسل علیہم الصلواة والسلام کے توسل و توسط سے ھی ھدایت
دیتا ھے- لہذا حیات رسول
اللہ حضرت محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ و الہ وسلم) میں مکمل ھو جانی والے دین
"الاسلام" پرقائم وکاربند رھنے کی اللہ رب العالمین سبحانہ وتعالی جسے
چاھتا ھے توفیق عطا فرماتا ھے۔
اب جو کوئی بھی شخص،
افراد، طبقہ یا گروہ، کتاب اللہ اورسنة رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و الہ وسلم) کے منافی
و ما سواء کسی بھی شخص یا اشخاص، جماعت یا گروہ، اکابر یا اکابرین، فقیہ یا فقہاء ،
مجتہد یا مجتہدین، کسی بھی تصنیف یا تالیف شدہ کتاب یا کتب یا کسی بھی انسانی خیالات و بشری افکار کو منزل من اللہ
الوھی دین "الاسلام" میں اتھارتی (حجیت) مانتا ھے، محض"مسلمان"
کے علاوہ اپنی کوئی بھی اوردینی ومذھبی شناخت یا نام (جیسے بریلوی، دیوبندی، مماتی،
حیاتی اھل حدیث، سلفی، جماعتی، تبلیغی، عطاری، طاھری وغیرھم) اپناتا، کہلواتا، رکھتا
ھے تو قرآ ن و سنة کی رو سے اس کے گمراہ ھونے میں کسی بھی شک و شبہ کی کوئی گنجائش
نہیں ھے۔
کم و بیش ایک صدی پہلے رسول الله صلى الله عليه وعلى أله وأصحابه وبارك وسلم كى نبوت كے زیراثرالله سبحانه وتعالى كى طرف سے براه راست اوربلاواسطه ھدایت حاصل ھونےکاجھوٹا دعوی مرتد وکذاب مرزا قادیانی نےکیا تھا اس مرتدوکذاب نے اپنی کتاب حقیقت وحی میں لکھا ھے خدا مجھے براہ راست ھدایت عطا فرماتاھےاوریہ ظلی نبوة ھےاس سےختم نبوة پراثرنہیں پڑتا - معاذ الله
کم و بیش ایک صدی پہلے رسول الله صلى الله عليه وعلى أله وأصحابه وبارك وسلم كى نبوت كے زیراثرالله سبحانه وتعالى كى طرف سے براه راست اوربلاواسطه ھدایت حاصل ھونےکاجھوٹا دعوی مرتد وکذاب مرزا قادیانی نےکیا تھا اس مرتدوکذاب نے اپنی کتاب حقیقت وحی میں لکھا ھے خدا مجھے براہ راست ھدایت عطا فرماتاھےاوریہ ظلی نبوة ھےاس سےختم نبوة پراثرنہیں پڑتا - معاذ الله
یہ دراصل
عقیدہ ختم نبوت کا بالواسطہ انحراف وانکاراورخاتم النبیین صلى
الله عليه واله وسلم کی نبوت میں جزوی اور تضمنی شراکت (ضمنی شراکت
فی النبوت) کا جھوٹا دعوی تھا۔مرتدوکذاب مرزا قادیانی سے پیشتر بھی قرون اولی
سے لےکرکم وبیش یا پورے تین صد کذابین ومرتدین اسی طرح سے تضمنی شراکت (ضمنی نبوت)
کے جھوٹے دعویداراوران کے پیروکاراپنےعبرتناک انجام کو پہنچ چکے
تھے۔ مرتدوکذاب مرزا قادیانی سے پہلے کذابین ومرتدین کےساتھ کسی بھی قسم کے
مکالمے یا مباحثے کی کبھی کوئی ضرورت نہیں سمجھی گئی بلکہ امة مسلمہ
نےارتداد کےایسےتمام ترفتنوں کےخلاف ھمیشہ جہاد (قتال) کیا
اور دوسے پچاس سالوں کےعرصے میں ان تمام فتنوں کا مکمل خاتمہ کرکے ان کا نام ونشان
بھی صفحہء ھستی سے مٹا ڈالا۔ ارتدادکےایسے فتنوں کےخلاف جہاد (قتال) فرض
سمجھا گیا۔
کسی انسان
کا جداگانہ وآزادانہ طورپریا رسول الله صلى الله عليه وعلى أله وأصحابه وبارك
وسلم كى نبوت كےزیراثر براه راست اوربلا واسطه ھدایت حاصل ھونے کا دعوی کرنا اوراس
کوالله سبحانه وتعالى كى طرف منسوب یا تسليم كرنا مسلمه عقيدۂ ختم نبوة كےسراسر
خلاف اور
اسلامی تعلیمات کے منافی ھے اوریه عقیدہ ختم نبوت سے بالواسطه انحراف
وانکاراورخاتم النبیین صلى الله عليه واله وسلم کی نبوت میں جزوی
اور تضمنی شراکت (ضمنی شراکت فی النبوت) کا جھوٹا دعوی اورصریح ارتداد
ھے۔ اورامة مسلمه نےان کے وجود کوذمی (غیرمسلم اقلیت، کافریا مذاھب عالم میں
سےایک باطل مذھب) کی حیثیت سے بھی کبھی برداشت یا قبول نہیں کیا- دین اسلام کےاس
ادنی طالب علم کی رائے میں، مرتدوکذاب مرزا قادیانی
کےمعاملےمیں امة مسلمہ سےسہویااجتہادی غلطی کاارتکاب ھوگیا جوکہ ایک بھت
بڑاالمیہ ھے۔
خاتم النبیین صلى
الله عليه واله وسلم توسل وتوسط کےبغیرالوھی ھدایت کے حصرل کاتصوربھی نہیں
کیا جا سکتا کیوں کہ روز قیامت تک کے جن وانس کی ھدایت کیلئے خالق کائنات اللہ رب
العالمین کی آخری کتاب ھدایت (قرآن مجید) علم الله اور وحی غیر متلوو یعنی سنت
رسول صلى الله عليه واله وسلم ھے جو بعينه نبى عليه الصلوة والسلام
كےعلم میں ھے، باقی سب انسانوں کیلۓ قرآن مجيد کے ان ھی معارف ومعانی
اورمفہوم ومقاصد کو سمجھنا ناگزیر ولازم ھے جومہبط وحی خاتم النبیین صلى الله
عليه واله وسلم نے سمجھے، سمجھائےاوربیان کۓ ھوں ان کے سوا یاخلاف جوکچھ
بھی سمجھا جاۓ وہ ھدایت نہیں سراسرگمراھی اور ضلالت ھے کیوں کہ باقی سب انسانوں
پرصرف اتباء واطاعت لازم او فرض ھے ان کو لفظا یا معنا کسی تصرف / مداخلت کا کوئی
حق یا اختیار حاصل نہیں ھے کیوں کہ علم الله بذاته اتمام يافته خبرھوتاھےاسے علم
انسانی کے لاحقات و سابقات شامل کرنے کی قطعا کوئی ضرورت نہیں ھوتی۔ الله سبحانه و
تعالى، اپنے آخری نبی عليه الصلواة والسلام کےسواکسی بھی انسان کو براه راست
اوربلا واسطه هدايت عطا نہیں كرتا اور رسول الله (صلى الله عليه وعلى أله وأصحابه
وبارك وسلم) کی بعثت اوررسالت و نبوت کا مقصد ھی یہ ھےکہ باقی تمام انسانوں کوخاتم
النبیین صلى الله عليه واله وسلم توسل وتوسط سےالوھی ھدایت ملے-
جو بھی کوئی مسلمان ملت
اسلامیہ اور امت مسلمہ کی اس موجوده زبوں حالی، مذھنی
منافرت، انتشار و افتراق، تفرقے اور ضلالت و گمراھی نیز بے راہ روی پر مضطرب و بے چینن ھو
کراصلاح احوال کیلۓ فکرمند وکوشاں نہیں بلکہ ملت
اسلامیہ اور امت مسلمہ کے ان بدترین حالات
کے باوجود مطمئن اورخوش ھےاسے اپنے ایمان کی صحت پرضرور غور کرنا چاھۓ کیونکہ سارے
مسلمان آپس میں بھائی بھائی اور ایک ملت، ایک جماعت و ایک امت یعنی امت واحدہ ھیں۔
پرویزاقبال آرائیں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں